خطرے کی گھنٹی (part 21 to The End )
باب 21: دھوکے کی دنیا

جیسے ہی دروازہ بند ہوا، تینوں کو محسوس ہوا کہ وہ کسی اور ہی دنیا میں آ چکے ہیں۔ یہ جگہ ایک عام سرنگ یا کمرہ نہیں تھا، بلکہ ایک سرسبز وادی تھی، جہاں آسمان پر تین سورج چمک رہے تھے۔
"یہ کیا جگہ ہے؟" حماد نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔
"یہ اصلی نہیں لگ رہی…" لیا نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "یہ کوئی جادوئی دنیا ہے!"
ایلیکس نے زمین پر ہاتھ پھیرا، اور جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔ "یہ زمین… یہ حقیقت میں زمین نہیں ہے، بلکہ ایک جادوئی سراب ہے!"
اچانک، ان کے سامنے تین مختلف راستے کھل گئے، اور ایک نرم مگر گونجتی ہوئی آواز سنائی دی:
"تین راستے… تین امتحان… تین فیصلے! جو سچائی کی تلاش میں ہے، وہ اپنے راستے پر بڑھے!"
"یہ کیسا امتحان ہے؟" لیا نے بے چینی سے پوچھا۔
ایلیکس نے غور سے راستوں کو دیکھا:
1. پہلا راستہ— سیاہ پتھروں سے بھرا ہوا، جس میں سے گرم دھواں اٹھ رہا تھا۔
2. دوسرا راستہ— برف کی سلوں سے ڈھکا، اور ہر طرف خون کی سرخ لکیریں تھیں۔
3. تیسرا راستہ— ایک نہ ختم ہونے والا سرنگ، جس میں چمکتی روشنی جھلملاتی تھی۔
"ہمیں الگ ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے…" حماد نے سنجیدگی سے کہا۔
"یہ وہی دھوکا ہے جو دروازے پر تھا!" لیا نے جواب دیا، "ہم ایک ساتھ رہیں گے!"
مگر جیسے ہی تینوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا، زمین ہلنے لگی، اور ان کے پیروں کے نیچے راستے ٹوٹنے لگے!
کیا وہ بچھڑ جائیں گے؟
باب 22: تقسیم کا جال
زمین لرز رہی تھی، اور تینوں کے پیروں تلے راستے ٹوٹ رہے تھے۔ ایلیکس، حماد اور لیا نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما، مگر جادوئی قوت بہت زیادہ تھی۔
"ہم الگ ہو رہے ہیں!" لیا چیخی، مگر جیسے ہی اس نے بولنا چاہا، اس کا جسم روشنی کی ایک چمک میں غائب ہو گیا۔
ایلیکس اور حماد نے ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر ایک زوردار جھٹکے نے انہیں بھی مختلف سمتوں میں دھکیل دیا۔
ایلیکس کا راستہ – برف کی سرنگ
ایلیکس کا جسم جیسے ہی روشنی کے پردے سے نکلا، وہ خود کو برف کی ایک خوفناک سرنگ میں پایا۔ ہر طرف برف کے نوکیلے تیز دھارے نکلے ہوئے تھے، اور سرنگ کے اندر گہرا سرخ رنگ کا عکس نظر آ رہا تھا۔
"یہ خون…؟" ایلیکس نے سرسراتے لہجے میں کہا۔
اچانک، سرنگ کے آخر میں ایک سایہ نمودار ہوا۔ وہ ایک لمبا، سیاہ چغہ پہنے کھڑا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک برفیلی تلوار تھی، اور اس کی آنکھیں نیلی روشنی سے جل رہی تھیں۔
"تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا، ایلیکس!" وہ بھیانک آواز میں بولا۔
ایلیکس نے نیلے پتھر کو مضبوطی سے پکڑا اور تیار ہو گیا، مگر کیا وہ جادوئی سرنگ سے زندہ نکل سکے گا؟
حماد کا راستہ – آگ کا قلعہ

حماد کا جسم گرم دھوئیں سے نکلا، اور وہ خود کو ایک قلعے میں پایا جہاں ہر چیز آگ میں لپٹی ہوئی تھی۔ قلعے کی دیواروں پر سیاہ ہاتھوں کے نشان تھے، جیسے کسی نے وہاں پر اپنی آخری چیخ کے ساتھ اپنا وجود چھوڑا ہو۔
"یہ جگہ… موت کا قلعہ ہے!" حماد نے سرگوشی کی۔
اچانک، قلعے کے دروازے کھل گئے، اور ایک زنجیروں میں بندھی ہوئی مخلوق سامنے آئی۔ وہ کوئی عام انسان نہیں تھا، بلکہ ایک جادوئی جنگجو تھا جس کے سینے پر سیاہ جادو کا نشان چمک رہا تھا۔
"حماد… تمہیں بھی قید ہونا ہوگا!" وہ سرگوشی کے انداز میں بولا اور اپنی تلوار کھینچ لی۔
حماد نے اپنی تلوار سنبھالی، مگر کیا وہ زندہ بچ پائے گا؟
لیا کا راستہ – بھول بھلیوں کا دروازہ
لیا کا جسم ایک نرم روشنی سے نکل کر ایک سنسان بھول بھلیاں میں جا پہنچا۔ ہر طرف آئینے لگے ہوئے تھے، اور ان میں اس کے بے شمار عکس نظر آ رہے تھے۔
"یہ سب… میرا ہی عکس ہیں؟" لیا نے حیرت سے کہا۔
مگر جیسے ہی اس نے قدم آگے بڑھایا، آئینوں میں سے ایک عکس مسکرا کر اس کی طرف بڑھا، اور اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
"تم میں سے ایک لیا جھوٹا ہے، اور صرف ایک ہی زندہ بچے گا!" آواز آئینوں میں گونجی۔
لیا کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ کیسے پتہ لگائے کہ کون سا عکس اصلی لیا ہے اور کون سا جعلی؟
کیا تینوں ایک دوسرے کو ڈھونڈ پائیں گے؟ یا یہ جال ہمیشہ کے لیے انہیں جدا کر دے گا؟
باب 23: موت کا کھیل

ایلیکس – برف کی سرنگ میں قید
ایلیکس کے قدم برف پر جمتے جا رہے تھے۔ سامنے کھڑا سیاہ چغہ پہنے شخص اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کی نیلی آنکھیں روشنی چھوڑ رہی تھیں، اور ہر قدم پر برف مزید سخت ہو رہی تھی۔
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟" وہ گرجدار آواز میں بولا۔
وہ شخص زور سے ہنسا، اور ایک جھٹکے میں پوری سرنگ لرز اٹھی۔ اچانک، برفانی دیواروں سے نوکیلے برف کے نیزے نکل آئے اور سیدھے ایلیکس کی طرف بڑھے۔
ایلیکس نے آخری لمحے پر چھلانگ لگائی، مگر اس کا کندھا برف کے ایک نوکیلے ٹکڑے سے کٹ گیا۔ خون کی بوندیں برف پر گریں، اور زمین نیلے رنگ میں چمکنے لگی۔
"یہ کیسا جادو ہے؟" ایلیکس نے حیرت سے اپنے زخم کو دیکھا۔
اچانک، سرنگ کی دیواروں پر نقوش روشن ہونے لگے، اور ایلیکس کو ایک خفیہ دروازہ نظر آیا۔ مگر کیا وہ وہاں پہنچ پائے گا؟
حماد – آگ کا قلعہ
حماد پسینے میں شرابور تھا۔ قلعے کی دیواروں سے نکلتی آگ اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھی۔ سامنے کھڑا جنگجو اپنی زنجیریں توڑ چکا تھا اور اپنی سیاہ تلوار کو گھمانے لگا۔
"یہ قلعہ تمہاری قبر بنے گا!" جنگجو دھاڑا۔
حماد نے تلوار کھینچی، مگر جیسے ہی اس نے وار کیا، جنگجو دھواں بن کر غائب ہو گیا اور حماد کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔
"یہ… ممکن نہیں!" حماد نے آنکھیں پھیلا کر کہا۔
جنگجو نے ایک زوردار وار کیا، مگر عین اسی لمحے قلعے کی دیوار پر ایک قدیم عبارت روشن ہوئی:
"صرف وہی زندہ رہے گا جو اپنی کمزوری کو قبول کرے!"
حماد سمجھ گیا! یہ جادوئی آزمائش تھی، اور اسے اپنی کمزوری کو تسلیم کرنا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا:
"ہاں! میں خوفزدہ ہوں، مگر میں پیچھے نہیں ہٹوں گا!"
اچانک، قلعے کی آگ مدھم ہونے لگی، اور جنگجو کی تلوار تحلیل ہو گئی۔ مگر یہ صرف پہلا امتحان تھا…
لیا – بھول بھلیوں کی حقیقت

لیا نے آئینوں میں اپنے عکس کو دیکھا۔ سب کے چہرے ایک جیسے تھے، مگر ایک کا سایہ ذرا سا الگ تھا۔
"یہی نقلی ہے!" لیا نے سوچا اور اپنی خنجر سے اس پر حملہ کر دیا۔
مگر جیسے ہی خنجر اس عکس کو لگا، وہ زور سے چیخا، اور پورا کمرا ہلنے لگا۔ تمام آئینے ٹوٹ گئے، اور اچانک لیا ایک اندھیری کوٹھری میں جا گری۔
سامنے ایک کرسی پر ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں بے حد گہری تھیں۔
"تم نے ایک غلطی کی، لیا!" اس کی سرگوشی سنائی دی۔
لیا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ "میں نے کیا غلطی کی؟"
کیا تینوں ایک دوسرے تک پہنچ پائیں گے؟ یا ان کا انجام واقعی بھیانک ہوگا؟

ایلیکس – برف کی سرنگ کا راز
ایلیکس نے خفیہ دروازے کی طرف دوڑ لگائی، مگر جیسے ہی اس نے دروازے کو ہاتھ لگایا، وہ اچانک ہوا میں تحلیل ہو گیا، اور ایلیکس خود کو کسی اور ہی جگہ پایا۔
یہ ایک قدیم ہال تھا، جس کی دیواروں پر پرانی تحریریں درج تھیں۔ زمین پر برفانی کرسٹل بکھرے پڑے تھے، اور درمیان میں ایک پتھر کا تخت تھا، جس پر ایک سنہری خنجر رکھا تھا۔
"کیا یہ کسی امتحان کا حصہ ہے؟" ایلیکس نے سوچا۔
اچانک، تخت پر ایک دھندلی سی شبیہہ ظاہر ہوئی، ایک شخص جو ایلیکس کو کسی خواب کی طرح جانا پہچانا لگا۔
"آخر تم کون ہو؟" ایلیکس نے بلند آواز میں پوچھا۔
وہ شبیہہ مسکرائی اور بولی: "جو کچھ تم نے سچ سمجھا ہے، وہ شاید دھوکہ ہو۔ اور جسے تم دھوکہ سمجھ رہے ہو، وہی حقیقت ہو سکتا ہے۔"
ایلیکس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا، وہ شبیہہ غائب ہو چکی تھی، اور سرنگ دوبارہ لرزنے لگی۔
حماد – قلعے کا اگلا امتحان
حماد آگ کے قلعے کے پہلے امتحان میں کامیاب ہو چکا تھا، مگر اب اس کے سامنے ایک لمبا دروازہ تھا، جس پر سرخ روشنی جھلملانے لگی۔
جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، وہ ایک وسیع و عریض کمرے میں پہنچ گیا، جہاں چاروں طرف آتشیں دیواریں کھڑی تھیں۔ کمرے کے وسط میں ایک شطرنج کی بساط بچھی ہوئی تھی، مگر اس پر بسنے والے مہرے ساکن نہیں تھے—وہ زندہ تھے!
"یہ ایک کھیل ہے، اور میں اس کا مہرہ بن چکا ہوں!" حماد نے سرگوشی کی۔
اچانک، کمرے کے ایک کونے میں ایک سائے کی حرکت ہوئی، اور ایک کرسی پر بیٹھا ہوا شخص نظر آیا۔ اس کا چہرہ دھند میں چھپا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
"کھیل شروع ہو چکا ہے، حماد!" وہ شخص بولا۔
حماد نے تلوار تھام لی، مگر اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ یہ کھیل کس نے ترتیب دیا تھا؟ اور اس کا اصل مقصد کیا تھا؟
لیا – پراسرار آوازیں

لیا ابھی تک اس بوڑھی عورت کے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی، جب اچانک کمرے میں ایک عجیب سا شور سنائی دینے لگا۔
"لیا… مت بھاگو…"
یہ سرگوشیاں تھیں، جو ہر طرف گونج رہی تھیں۔
لیا نے جلدی سے خنجر نکالا اور محتاط انداز میں ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ مگر کمرہ خالی تھا، اور بوڑھی عورت بھی جا چکی تھی۔
"یہ جگہ مجھے پاگل کر دے گی!" لیا نے دانت پیسے۔
مگر جیسے ہی اس نے کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی، اس کے سامنے ایک ایسا چہرہ نمودار ہوا جسے دیکھ کر اس کی سانس رک گئی۔
یہ کوئی اور نہیں، بلکہ… ایلیکس تھا!
"ایلیکس؟ تم یہاں کیسے…؟" لیا نے حیرت سے کہا۔
مگر ایلیکس کے چہرے پر ایک غیر معمولی مسکراہٹ تھی، اور اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو لیا جانتی تھی۔
"کیا یہ حقیقت ہے؟ یا صرف ایک دھوکہ؟" لیا کے دل میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔

لیا – سایوں کا کھیل
لیا کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئیں۔ ایلیکس اس کے سامنے کھڑا تھا، مگر کچھ عجیب تھا۔ اس کے انداز میں وہ بے تابی نہیں تھی جو لیا پہچانتی تھی، اور اس کی مسکراہٹ میں ایک انجان سا کرخت پن تھا۔
"تم… ایلیکس ہو، ہے نا؟" لیا نے احتیاط سے پوچھا۔
ایلیکس نے جواب دینے کے بجائے ایک قدم آگے بڑھایا۔
"لیا، تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟"
لیا کے اندر خطرے کی گھنٹی بجی۔ اس کی انگلیاں آہستہ سے خنجر کے دستے پر جا ٹکیں۔
"اگر تم واقعی ایلیکس ہو، تو مجھے بتاؤ کہ جب ہم پہلی بار ملے تھے، میں نے تمہیں کیا کہا تھا؟" لیا نے سوال کیا۔
ایلیکس لمحہ بھر کو خاموش رہا، پھر بولا: "تم نے کہا تھا کہ میں بے وقوف لگتا ہوں!"
لیا کے چہرے پر حیرت دوڑ گئی۔ یہ وہی جواب تھا جو ایلیکس کو دینا چاہیے تھا، مگر پھر بھی کچھ غلط محسوس ہو رہا تھا۔
اچانک، اس کے آس پاس کی دیواریں ہلنے لگیں۔ سائے لرزنے لگے، اور زمین کانپنے لگی۔
"یہ کیا ہو رہا ہے؟!" لیا چیخی۔
ایلیکس کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔ "یہ… کھیل کا اگلا مرحلہ ہے!"
حماد – موت کی بساط
حماد نے مہرے غور سے دیکھے۔ یہ عام شطرنج کے مہرے نہیں تھے—یہ سانس لے رہے تھے، حرکت کر رہے تھے۔ جیسے ہی اس نے ایک قدم بڑھایا، سامنے کھڑا گھوڑا اچانک زندہ ہوا اور بجلی کی تیزی سے اس پر حملہ کر دیا۔
حماد بمشکل پیچھے ہٹا، مگر زمین پر اس کے قدم جمنے لگے تھے۔
"اگر میں غلط چلا، تو میں مر جاؤں گا!"
حماد نے گہری سانس لی اور سوچنے لگا۔ اسے یہ کھیل جیتنا تھا، مگر کیسے؟
اچانک، اسے یاد آیا—یہ بساط عام نہیں تھی۔ یہ ایک قدیم جادوئی کھیل تھا، جس میں مہروں کو مارنے کے بجائے ان کی کمزوری سمجھنی پڑتی تھی۔
اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا:
"میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ میں تمہیں آزاد کرنا چاہتا ہوں!"
چند لمحوں کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ پھر، اچانک، مہروں کی آنکھوں میں روشنی چمکی، اور وہ ایک ایک کر کے ساکت ہوتے گئے۔
"یہ… کام کر گیا؟"
مگر جیسے ہی اس نے سکون کا سانس لیا، قلعے کی چھت دھڑام سے گری، اور ایک نئی راہداری ظاہر ہوئی۔ مگر یہ کہاں لے کر جائے گی؟
ایلیکس – یادوں کا دھوکہ
ایلیکس برفانی سرنگ سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا، مگر وہ جس جگہ پہنچا، وہ بالکل مختلف تھی۔
یہ ایک وسیع و عریض ہال تھا، اور اس کے بیچ میں ایک آئینہ نصب تھا۔ جیسے ہی ایلیکس نے اس میں جھانکا، اس نے اپنا ہی عکس دیکھا—مگر اس کا عکس اس پر ہنس رہا تھا۔
"یہ کیسا مذاق ہے؟" ایلیکس بڑبڑایا۔
اچانک، اس کے عکس نے بولنا شروع کیا:
"تم جو دیکھ رہے ہو، وہ سچ نہیں ہے۔ تم نے جس پر بھروسہ کیا، وہی تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے!"
ایلیکس پیچھے ہٹ گیا۔
"کیا مطلب؟ کس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے؟"
آئینے میں ایلیکس کا عکس بگڑنے لگا، اور اچانک اس کی جگہ لیا کا عکس نظر آیا!
کیا لیا واقعی دشمن ہے، یا یہ سب کسی اور کی چال ہے؟
باب 26: بھروسے کا امتحان

لیا – سایہ جو تعاقب کرتا ہے
لیا نے ایلیکس کے چہرے پر پھیلے ہوئے شک کے سائے کو محسوس کر لیا تھا۔ اس کی نظریں اب ویسی نہیں رہی تھیں جیسی پہلے ہوا کرتی تھیں—ان میں بے یقینی تھی، ایک چھپا ہوا سوال تھا جو چیخ چیخ کر پوچھ رہا تھا: "کیا تم نے مجھے دھوکہ دیا؟"
لیا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
"ایلیکس، تم مجھ پر شک کر رہے ہو؟" اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔
لیا کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
"تمہیں میرے بارے میں سوچنے کے لیے ایک آئینے کی ضرورت ہے؟ کیا ہماری دوستی اتنی کمزور تھی؟"
ایلیکس خاموش تھا۔
اچانک، ایک دھماکہ ہوا۔ دیوار کا ایک حصہ گر گیا اور وہاں سے ایک نقاب پوش شخص باہر نکلا۔
"بہت خوب! میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم دونوں ایک دوسرے پر کب تک بھروسہ کرتے ہو!"
لیا اور ایلیکس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
"کون ہو تم؟" لیا نے تلوار کھینچ لی۔
حماد – گھڑی جو وقت بدل سکتی تھی
حماد نے اپنی سانسیں قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے سامنے ایک سنہری گھڑی رکھی تھی، جس کی سوئیاں الٹی سمت میں گھوم رہی تھیں۔
"یہ گھڑی عام نہیں ہے…" اس نے زیرِ لب کہا۔
اچانک، گھڑی نے ایک چمک پیدا کی، اور حماد خود کو ایک مختلف جگہ پر پایا—یہ وہی قلعہ تھا، مگر… وقت پیچھے جا چکا تھا!
"یہ… کیسے ممکن ہے؟"
حماد نے دیکھا کہ ایلیکس اور لیا اب بھی اس امتحان میں پھنسے ہوئے تھے۔ مگر اس بار، وہ دیکھ سکتا تھا کہ اصل حقیقت کیا تھی!
"مجھے انہیں خبردار کرنا ہوگا!" حماد نے سوچا۔
مگر جیسے ہی اس نے حرکت کی، کسی نے پیچھے سے اس کا کندھا پکڑ لیا۔
"تم وقت کے اصولوں سے کھیل رہے ہو، حماد… اور اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی!"
ایلیکس – دھوکہ یا حقیقت؟
ایلیکس کا ذہن انتشار کا شکار تھا۔ لیا کی آنکھوں میں جو درد تھا، وہ جھوٹا نہیں لگ رہا تھا۔ مگر آئینے میں جو کچھ اس نے دیکھا تھا، وہ بھی حقیقت لگ رہا تھا۔
"کیا میں کسی کے جال میں پھنس رہا ہوں؟"
ایک پتھر کا دروازہ ان کے سامنے ابھرا۔
لیا نے ایلیکس کی طرف دیکھا۔ "ہمیں یہ دروازہ کھولنا ہوگا، ایلیکس!"
مگر ایلیکس اب بھی تذبذب میں تھا۔
"اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا، تو کیا ہوگا؟"
لیا نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، اور پھر دروازے کی طرف بڑھی۔
"اگر تمہیں بھروسہ نہیں، تو میں اکیلی ہی سچ کا سامنا کر لوں گی!"
اور اس نے دروازہ کھول دیا…
لیکن جیسے ہی دروازہ کھلا، اندھیرے نے سب کچھ نگل لیا!
کیا حماد وقت کے اصول توڑ کر اپنے دوستوں کو بچا سکے گا؟ لیا کا فیصلہ صحیح تھا یا یہ ایک اور جال تھا؟ ایلیکس کو کس پر یقین کرنا چاہیے؟
باب 27: وقت کا الٹا سفر

حماد – ماضی کا قیدی
اندھیرا چھٹنے لگا، اور حماد نے خود کو اسی جگہ پایا جہاں سے وہ غائب ہوا تھا۔ مگر یہاں کچھ مختلف تھا۔ قلعے کی دیواریں زیادہ چمکدار لگ رہی تھیں، مشعلوں کی روشنی زیادہ تازہ تھی، اور محافظ وردیوں میں کھڑے تھے—یہ سب کچھ ماضی میں ہوا تھا!
"کیا یہ گھڑی واقعی مجھے وقت میں پیچھے لے آئی ہے؟" حماد نے خود سے سوال کیا۔
اس نے دیوار پر موجود ایک قدیم تصویر کی طرف دیکھا۔ یہاں وہی نقاب پوش کھڑا تھا! مگر اس بار، بغیر نقاب کے۔
"یہ تو… زین ہے!" حماد کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
زین، جو ہمیشہ سایہ کی طرح ان کے پیچھے رہا، درحقیقت اس جال کا اصل معمار تھا۔
"تو کیا زین نے لیا اور ایلیکس کے خلاف سازش کی؟"
حماد کو حقیقت کا علم ہو چکا تھا، مگر سوال یہ تھا—کیا وہ وقت پر واپس جا سکے گا؟
لیا – اعتماد کا امتحان
اندھیرے کے اندر، لیا نے خود کو ایک آئینے کے سامنے پایا۔ مگر یہ عام آئینہ نہیں تھا۔
"یہ کیا جگہ ہے؟" اس نے دھیرے سے کہا۔
اچانک، آئینے میں اس کی اپنی تصویر بدلنے لگی۔ ایک ہیولہ ابھرا، جو بالکل اس جیسا تھا۔
"تم نے مجھ پر یقین کیوں کیا، لیا؟" ہیولہ بولا۔
لیا نے ایک قدم پیچھے لیا۔ "کیا…؟"
"تم نے ایک بار ایلیکس کو دھوکہ دیا تھا، یاد ہے؟"
لیا کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
"نہیں… وہ ماضی تھا!"
ہیولہ ہنسا۔ "مگر ماضی کبھی ختم نہیں ہوتا… تمہاری قسمت کا فیصلہ ہو چکا ہے!"
لیا چیخنے ہی والی تھی کہ دروازہ دھماکے سے کھل گیا، اور ایلیکس اندر داخل ہوا۔
"لیا! تم ٹھیک ہو؟"
لیا نے اس کی طرف دیکھا—مگر کیا وہ حقیقت میں ایلیکس تھا، یا پھر کوئی اور؟
ایلیکس – دشمن کے جال میں؟
ایلیکس نے جیسے ہی دروازہ پار کیا، اس نے دیکھا کہ لیا ایک آئینے کے سامنے کھڑی کانپ رہی تھی۔ مگر وہ اکیلی نہیں تھی۔
"یہ کون ہے؟" ایلیکس نے پوچھا۔
لیا نے خوفزدہ ہو کر سر اٹھایا۔ "یہ… میں ہوں!"
ایلیکس الجھن میں پڑ گیا۔ "کیا مطلب؟"
اچانک، آئینے میں موجود ہیولے نے اپنی اصلی شکل اختیار کی۔ وہ زین تھا!
"تمہیں آخر کار احساس ہو ہی گیا، ایلیکس!" زین نے قہقہہ لگایا۔ "یہ سب کچھ میری منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ تمہیں شک میں ڈالنا، لیا کو کمزور کرنا، اور حماد کو وقت میں قید کرنا!"
"حماد کہاں ہے؟" ایلیکس نے غصے سے پوچھا۔
"تمہارے لیے وہ مر چکا ہے!" زین نے کہا اور دیوار پر لگا ہوا ایک خنجر نکال لیا۔
"اب یہ کہانی اپنے اختتام کو پہنچے گی!"
لیا اور ایلیکس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ وہ دونوں تنہا تھے، اور زین اب آخری وار کے لیے تیار تھا۔
کیا حماد واپس آ سکے گا؟ کیا لیا اور ایلیکس زین کو روک پائیں گے؟ یا پھر وقت کا کھیل ان سب کو جال میں پھنسا چکا ہے؟
باب 28: موت کا کھیل

حماد – وقت کی قید میں
حماد کے ارد گرد ہر چیز دھندلی ہوتی جا رہی تھی۔ وہ وقت کے سمندر میں تیر رہا تھا، ایک لمحے وہ حال میں تھا، اور اگلے لمحے پھر ماضی میں۔
"یہ گھڑی میرے ساتھ کیا کر رہی ہے؟" اس نے گھبرا کر اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پراسرار گھڑی کو دیکھا، جو تیزی سے چمک رہی تھی۔
اچانک، زمین لرزنے لگی۔ اس کے کانوں میں ایک گونجدار آواز آئی:
"اگر تم وقت میں واپس جانا چاہتے ہو، تو قربانی دینا ہوگی!"
"قربانی؟ کس چیز کی؟" حماد نے بے یقینی سے پوچھا۔
جواب میں گھڑی کا شیشہ چٹخنے لگا، اور اس کے سامنے ایک شبیہ نمودار ہوئی۔ یہ لیا تھی! مگر وہ بے جان زمین پر پڑی ہوئی تھی۔
"نہیں! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟"
گھڑی کی آواز پھر ابھری: "تم ایک ہی شخص کو بچا سکتے ہو… لیا یا ایلیکس!"
حماد کے سانس تھم گئے۔ یہ کیسا انتخاب تھا؟
ایلیکس – آخری چال
ایلیکس نے زین کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں اب وحشت ناچ رہی تھی۔
"تم ہمیشہ سے ہمارے ساتھ کھیل رہے تھے، زین!" ایلیکس کی آواز سخت تھی۔
زین نے ہنسی میں کہا، "اور تم ہمیشہ بے وقوف بنتے رہے!"
اس نے خنجر بلند کیا، مگر لیا نے فوراً اپنی تلوار سونتی اور زین کے وار کو روک دیا۔
"تم ہمیں نہیں مار سکتے!" لیا نے پُرعزم لہجے میں کہا۔
زین نے مسکرا کر سر جھکا دیا۔ "یہی تو دیکھنا باقی ہے!"
اچانک، کمرے میں دھواں بھرنے لگا، اور زین ایک سائے میں بدل گیا۔
"اب تم مجھے کبھی نہیں روک پاؤ گے!"
لیا – سچ کا انکشاف
لیا نے خود کو تیزی سے بدلتے مناظر میں پایا۔ وہ پہلے محل کے کمرے میں تھی، پھر اچانک ایک جیل میں، اور پھر ایک جنگ کے میدان میں۔
"یہ سب حقیقت ہے یا کوئی خواب؟" اس نے خود سے کہا۔
پھر اسے ایک سرگوشی سنائی دی، "یہ وقت کا جال ہے… تم صرف اپنی یادوں پر بھروسہ کر سکتی ہو!"
"یادیں؟" لیا نے سوچا اور اچانک اسے کچھ یاد آیا—زین کے ہاتھ میں جو گھڑی تھی، وہ وہی تھی جو حماد کے پاس بھی تھی!
"اگر میں اس گھڑی کو تباہ کر دوں تو شاید سب ٹھیک ہو جائے!"
لیا نے ایلیکس کی طرف دیکھا، جو زین کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
"ایلیکس! گھڑی توڑنی ہوگی!"
فیصلہ کن لمحہ
حماد کے سامنے وقت رک گیا تھا۔ گھڑی کے کانٹے تھم چکے تھے۔ اس کے سامنے دو راستے تھے—لیا کو بچانا یا ایلیکس کو۔
اس نے آنکھیں بند کیں اور دل کی سننے کی کوشش کی۔
"ایلیکس… یا لیا؟"
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"مجھے فیصلہ کرنا ہوگا!"
کیا حماد صحیح انتخاب کرے گا؟ کیا زین کو روکا جا سکے گا؟
باب 29: وقت کی بازی

حماد کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ لیا یا ایلیکس؟
لیکن… کیا وقت نے پہلے ہی انتخاب کر لیا تھا؟
لیا کی سانسیں مدھم ہو رہی تھیں، جبکہ ایلیکس زین کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
"میں… میں وقت کو پلٹ سکتا ہوں!" حماد نے گھڑی کو سختی سے پکڑ کر آنکھیں بند کر لیں۔
اور پھر…
سب کچھ اندھیرے میں ڈوب گیا!
باب 30: روشنی اور اندھیرا
جب حماد نے دوبارہ آنکھیں کھولیں، تو وہ اسی محل میں تھا جہاں کہانی شروع ہوئی تھی… مگر یہ جگہ اجاڑ تھی۔
"کیا… میں ماضی میں آ گیا ہوں؟"
"نہیں… تم وقت کے بیچ میں ہو!" اچانک گھڑی سے ایک آواز ابھری۔
"کیا مطلب؟"
"یہ وقت کا ایک خلا ہے۔ یہاں سب کچھ بدل سکتا ہے!"
"کیا میں لیا کو بچا سکتا ہوں؟"
"مگر قیمت دینی ہوگی!"
حماد نے ایک لمحے کے لیے سوچا… کیا وہ اپنی جان دے سکتا ہے؟
باب 31: آخری جنگ

لیا اور ایلیکس زین کے سامنے کھڑے تھے۔
زین کے ہاتھ میں گھڑی چمک رہی تھی۔
"تم مجھے ہرا نہیں سکتے!" زین نے کہا۔
"ہمیں تمہیں ہرانا نہیں، گھڑی کو تباہ کرنا ہے!" لیا چلائی۔
ایلیکس نے زین کی طرف بھاگتے ہوئے کہا، "یہ وقت ختم ہونے والا ہے!"
لیکن جیسے ہی وہ قریب پہنچا…
✨ زین نے گھڑی توڑ دی، اور وقت رک گیا!
باب 32: قربانی
حماد نے آنکھیں کھولیں۔
اس کے سامنے لیا اور ایلیکس بے ہوش پڑے تھے۔
زین مسکرا رہا تھا۔
"اب میں ہمیشہ کے لیے وقت کا مالک بن گیا ہوں!"
"نہیں!" حماد نے چیخ کر گھڑی کو پکڑ لیا، اور اپنی پوری طاقت سے اسے الٹا گھمانا شروع کر دیا۔
"کیا کر رہے ہو؟" زین دھاڑا۔
لیکن حماد نے آنکھیں بند کیں… اور خود کو گھڑی میں جذب کر دیا!
💥 دھماکہ ہوا، روشنی پھیلی، اور وقت پھر سے چلنے لگا!
باب 33: خاموشی کے بعد
لیا اور ایلیکس نے آنکھیں کھولیں۔
"حماد کہاں ہے؟"
لیکن وہاں صرف گھڑی کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے تھے…
"کیا وہ… قربان ہو گیا؟"
لیا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "یہ سب اس نے ہمارے لیے کیا…"
"نہیں، شاید…" ایلیکس نے سرگوشی کی۔ "شاید وہ کہیں اور ہے…"
باب 34: نیا آغاز
سالوں بعد…
لیا ایک نئی دنیا میں کھڑی تھی۔ سب کچھ پہلے جیسا تھا، مگر بہتر۔
"حماد کی قربانی نے ہمیں وقت کی قید سے آزاد کر دیا!"
لیکن ایک دن…
ایک جانی پہچانی آواز آئی…
"لیا؟"
لیا نے پلٹ کر دیکھا…
!🔥حماد کھڑا تھا
✨ کہانی ختم… یا شاید نہیں؟
"سب نے سکھ کا سانس لیا… مگر کسی نے نہیں دیکھا کہ سائے میں چھپا کوئی !🔥مسکرا رہا تھا۔"
Iqra Majeed Abbasi
WhatsApp ➤ Link
Facebook Group ➤ Nazariya Point of View

Comments
Post a Comment