خطرے کی گھنٹی (part 8 to 20)
For Reading in English, Click Here :
باب 8: پردے کے پیچھے
قدموں کی آوازیں قریب آتی گئیں۔ ایلیکس اور حماد کے دل جیسے سینے سے باہر آنے کو تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فوراً کتاب کو اپنی جیکٹ کے اندر چھپا لیا۔ دروازہ دھیرے دھیرے چرچراتے ہوئے کھلا...
ایک دراز قد آدمی سیاہ لباس میں ملبوس اندر داخل ہوا۔ اس کی آنکھیں کسی باز کی طرح تیز تھیں، اور اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔
"تمہارے پاس جو چیز ہے، وہ میرے حوالے کر دو!" اس کی گہری، کرخت آواز کمرے میں گونجی۔
ایلیکس نے کتاب کو مضبوطی سے تھام لیا۔ "ہمیں نہیں معلوم تم کس کے آدمی ہو، لیکن یہ کتاب ہم کسی کو نہیں دیں گے!"
آدمی کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ "تم نہیں جانتے، تم نے کیا چھیڑ دیا ہے۔ زین تمہیں جیتا نہیں چھوڑے گا۔"
حماد نے ایک قدم پیچھے ہٹایا اور آہستہ سے ایلیکس کے کان میں کہا، "یہ خطرناک لگ رہا ہے، ہمیں نکلنا ہوگا!"
لیکن آدمی نے جیسے ہی جیب سے کچھ نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، دروازے کے قریب ایک اور حرکت ہوئی۔
"خبردار! پیچھے ہٹ جاؤ!" دروازے پر ایک نقاب پوش لڑکی کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں ایک قدیم طرز کی طلائی خنجر چمک رہا تھا۔
ایلیکس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، "تم کون ہو؟"
لڑکی نے ایک لمحے کے لیے چہرے سے نقاب ہٹایا... یہ لیا تھی!
"یہ وقت سوالات کا نہیں، چلو یہاں سے نکلو!" اس نے غصے سے کہا اور دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
حماد اور ایلیکس نے موقع ضائع کیے بغیر باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔ لیکن جیسے ہی وہ بھاگے، وہ سیاہ لباس میں ملبوس آدمی چیخا، "تم بچ کر نہیں جا سکتے!"
اس کی آواز کے ساتھ ہی باہر موجود گلی میں بھاری قدموں کی گونج سنائی دی... زین کے آدمی وہاں موجود تھے!
باب 9: تعاقب کی گھڑی
اندھیری گلی میں ایلیکس، حماد اور لیا تیز قدموں سے بھاگ رہے تھے۔ پسینے کی بوندیں ان کی پیشانی سے ٹپک رہی تھیں، اور دل دیوانہ وار دھڑک رہے تھے۔ پیچھے زین کے آدمی قریب آ رہے تھے، ان کے قدموں کی آوازیں گلی کی خاموشی میں گونج رہی تھیں۔
"یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہونا چاہیے!" حماد نے بے چینی سے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا۔
لیا نے ایک پرانے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ "یہاں سے آؤ!"
تینوں دروازے کی طرف لپکے، لیکن جیسے ہی ایلیکس نے اسے دھکیلا، وہ بند تھا!
"یہ تو بند ہے! اب کیا کریں؟" حماد نے گھبرا کر کہا۔
"خاموش رہو!" لیا نے سخت لہجے میں کہا، اور تیزی سے اپنے خنجر کو تالے میں گھسیڑ دیا۔ چند لمحوں کی جدو جہد کے بعد دروازہ دھڑ سے کھل گیا۔
"چلو اندر!" ایلیکس نے کہا، اور تینوں جلدی سے اندر داخل ہوگئے۔
یہ ایک پرانا، خستہ حال گودام تھا۔ اندر گھپ اندھیرا تھا، دیواروں پر مکڑیوں کے جالے لٹک رہے تھے، اور ہوا میں ایک بوسیدہ سی بو پھیلی ہوئی تھی۔
"یہ جگہ زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہے گی۔ ہمیں فوراً نکلنا ہوگا!" لیا نے سرگوشی کی۔
لیکن جیسے ہی وہ آگے بڑھے، دروازے کے باہر سے کسی کی آواز آئی۔
"وہ ادھر چھپے ہیں!"
زین کے آدمی دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے!
"ہم پھنس گئے ہیں!" حماد نے غصے سے مکا دیوار پر مارا۔
"نہیں، ابھی نہیں!" ایلیکس نے جیب سے کتاب نکالی اور لیا کی طرف دیکھا۔ "یہ کتاب... اس میں کوئی نہ کوئی راز چھپا ہے، اور ہمیں اسے تلاش کرنا ہوگا!"
لیا نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے، لیکن پہلے یہاں سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا!"
دروازے پر زوردار دھماکا ہوا، زین کے آدمی اندر گھسنے والے تھے!
کیا ایلیکس، حماد اور لیا بچ پائیں گے؟ کتاب میں ایسا کیا راز ہے جس کے پیچھے زین لگا ہوا ہے؟
باب 10: راز کی پہلی کڑی
دروازہ زور زور سے بجنے لگا، جیسے ہی زین کے آدمی اسے توڑنے کے قریب پہنچے، لیا نے ایک پرانی الماری کی طرف اشارہ کیا۔
"یہاں سے نکلنے کا کوئی اور راستہ ہو سکتا ہے!" وہ تیزی سے اس کی طرف لپکی۔
حماد نے جلدی سے کتاب ایلیکس کے ہاتھ میں تھمائی اور لیا کی مدد کرنے لگا۔ "اگر ہم نے راستہ نہ ڈھونڈا، تو یہ ہمارا آخری لمحہ ہو سکتا ہے!"
ایلیکس نے گہری سانس لی اور کتاب کے صفحات پلٹنے لگا، اچانک ایک صفحے پر اس کی نظر جمی رہ گئی۔ اس پر ایک خفیہ علامت بنی ہوئی تھی، اور اس کے نیچے کچھ الفاظ کھدے ہوئے تھے:
"جہاں روشنی اندھیرے سے ملے، وہاں سچائی چھپی ہے۔"
"یہ کیا مطلب ہو سکتا ہے؟" ایلیکس بڑبڑایا۔
لیا نے جلدی سے الماری کو پیچھے دھکیلا اور ایک پتھر کی دیوار پر ہاتھ مارا، اچانک دیوار تھوڑی سی سرکنے لگی۔
"یہ رہی ہماری راہِ فرار!" حماد خوشی سے چلایا۔
دروازہ ٹوٹنے ہی والا تھا کہ تینوں جلدی سے اس خفیہ راستے میں داخل ہوگئے۔ جیسے ہی وہ اندر پہنچے، لیا نے پیچھے سے پتھر کو کھینچ کر دروازہ بند کر دیا۔
"ہم بچ گئے!" حماد نے لمبی سانس لی۔
"لیکن یہ راستہ ہمیں کہاں لے جا رہا ہے؟" لیا نے پوچھا، جب کہ وہ تنگ اور تاریک سرنگ میں آگے بڑھ رہے تھے۔
ایلیکس نے مشعل جلائی، اور ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
سامنے ایک قدیم چیمبر تھا، جس کی دیواروں پر پرانی تحریریں لکھی ہوئی تھیں۔ وسط میں ایک میز پر ایک اور کتاب رکھی تھی، جو بالکل ویسی ہی لگ رہی تھی جیسے ایلیکس کے ہاتھ میں تھی۔
"یہ کیا ہو سکتا ہے؟" ایلیکس نے آہستہ سے کتاب اٹھائی۔
لیکن جیسے ہی اس نے اسے چھوا، زمین ہلنے لگی اور دیواروں میں خفیہ دراڑیں بننے لگیں!
"یہ جگہ گرنے والی ہے! ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہوگا!" لیا چیخی۔
ایلیکس نے جلدی سے کتاب اٹھائی، لیکن جیسے ہی اس نے نظر گھمائی، ایک پراسرار سایہ ان کے قریب آتا دکھائی دیا...
کون تھا وہ سایہ؟ کیا یہ کتاب ان کے لیے مددگار ہوگی یا خطرناک؟
باب 11: سائے میں چھپا دشمن
ایلیکس کے ہاتھوں میں وہ پراسرار کتاب تھی، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے، سایہ ان کے مزید قریب آگیا۔ مشعل کی مدھم روشنی میں ایک قد آور شخصیت نمودار ہوئی۔
"آخرکار، تم یہاں تک پہنچ ہی گئے!" بھاری آواز گونجی، جو سننے میں کسی گہری گونجتی ہوئی سرنگ جیسی محسوس ہو رہی تھی۔
حماد اور لیا ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ایلیکس نے کتاب کو مضبوطی سے تھام لیا اور پوچھا، "تم کون ہو؟ اور ہمیں یہاں کیوں لایا گیا ہے؟"
وہ شخص آگے بڑھا، اس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔ "تمھاری تلاش ایک ایسے راز کی طرف جا رہی ہے جسے صدیوں سے چھپایا جا رہا تھا۔ مگر جو سچ جاننا چاہتے ہیں، وہ اکثر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں!"
"ہمیں دھمکانے کی کوشش مت کرو!" حماد نے تلوار نکالی، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر پاتا، اس نقاب پوش نے ہاتھ اٹھایا اور دیوار پر لگا ایک قدیم نشان دبایا۔
اچانک چیمبر کی دیواروں پر پرانی تحریریں چمکنے لگیں، اور فرش کے نیچے سے ایک اور خفیہ راستہ کھل گیا۔
لیا نے حیرت سے پوچھا، "یہ کیا ہے؟"
"یہی وہ راستہ ہے جو تمھیں حقیقت تک لے جا سکتا ہے، مگر یاد رکھو... ہر سچائی ایک قربانی مانگتی ہے!" نقاب پوش نے کہا اور اندھیرے میں غائب ہوگیا۔
ایلیکس نے گہری سانس لی اور نیچے جھانکا۔ سرنگ بہت گہری اور تاریک تھی، مگر اب پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
"ہم کیا کریں؟" لیا نے ایلیکس اور حماد کی طرف دیکھا۔
حماد نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا، "ہمیں نیچے جانا ہوگا۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں حقیقت تک لے جائے گا!"
ایلیکس نے آخری بار کتاب پر نظر ڈالی اور سرنگ میں قدم رکھ دیا۔
مگر کیا یہ راستہ انھیں سچائی تک لے جائے گا یا کسی اور خطرے میں دھکیل دے گا؟
باب 12: رازوں کی سرنگ
ایلیکس، حماد، اور لیا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر بنا وقت ضائع کیے اندھیرے سرنگ میں داخل ہوگئے۔ جیسے ہی وہ نیچے اترے، ہوا میں نمی اور گھٹن کا احساس بڑھنے لگا۔ دیواروں پر قدیم نقوش تھے، جیسے کسی نامعلوم زبان میں کوئی تحریر کندہ ہو۔
"یہ جگہ صدیوں پرانی لگ رہی ہے..." لیا نے ہاتھ سے دیوار کو چھو کر کہا۔
"لیکن سوال یہ ہے کہ ہم یہاں کس کی تلاش میں ہیں؟" حماد نے مشعل کو آگے کیا تاکہ مزید راستہ دیکھ سکے۔
اچانک، زمین لرزنے لگی، اور سرنگ کے آخری سرے پر ایک دیوار خود بخود کھسکنے لگی، جیسے کسی خفیہ دروازے کا اشارہ ہو۔ تینوں ایک دم چونک گئے۔
"یہ کیسے کھلا؟" ایلیکس نے حیرت سے کہا۔
حماد نے پرجوش ہو کر قدم آگے بڑھایا، "ہوسکتا ہے کہ یہ ہمارے سوالات کے جوابات کا راستہ ہو!"
جیسے ہی وہ دروازے سے گزرے، سامنے ایک وسیع کمرہ تھا، جس کی چھت اتنی اونچی تھی کہ وہاں مدھم نیلی روشنی کا عکس پڑ رہا تھا۔
کمرے کے وسط میں ایک قدیم پتھر کا تخت تھا، جس پر ایک بوسیدہ کتاب رکھی ہوئی تھی۔ ایلیکس نے جیسے ہی کتاب کو چھوا، ایک زور دار آواز گونجی:
"جو سچائی جاننا چاہتا ہے، اسے قربانی دینی ہوگی!"
حماد نے تیزی سے پیچھے مڑ کر دیکھا، مگر کوئی نظر نہیں آیا۔ لیا نے کتاب کے اوراق پلٹنے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی اس نے ایسا کیا، ایک زوردار جھٹکا لگا، اور کمرے کی دیواروں پر روشنی چمک اٹھی۔
اچانک، دیواروں سے سائے نمودار ہونے لگے۔ وہ انسانی شکل میں تھے، مگر ان کی آنکھیں سرخ چمک رہی تھیں۔
"یہ کیا چیزیں ہیں؟!" لیا خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی۔
"یہ محافظ ہیں… رازوں کے محافظ!" ایلیکس نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ "اگر ہمیں اس کتاب کا راز جاننا ہے، تو شاید ہمیں ان کا سامنا کرنا ہوگا!"
حماد نے تلوار مضبوطی سے تھام لی۔ لیا نے مشعل کو مزید آگے کیا، جبکہ ایلیکس نے کتاب کو اٹھا لیا۔
کیا وہ ان پراسرار سائے سے بچ کر راز تک پہنچ سکیں گے؟ یا یہ سرنگ ان کا آخری مقام ثابت ہوگی؟
باب 13: سائے کے وار
دیواروں سے نکلنے والے سائے تیزی سے حرکت کر رہے تھے، جیسے وہ تینوں کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہوں۔ ان کی آنکھوں کی سرخی اور بدن سے نکلتی دھند ایک پراسرار خوف کا احساس دلا رہی تھی۔
"ہمیں ان سے لڑنا ہوگا!" حماد نے تلوار مضبوطی سے پکڑ لی۔
"نہیں! یہ حقیقی جسم نہیں رکھتے، تلوار بے کار ہوگی!" ایلیکس نے چیخ کر کہا۔
لیا نے جلدی سے کتاب کے اوراق پلٹنے شروع کیے، شاید اس میں کوئی اشارہ ہو کہ ان سائے کا سامنا کیسے کیا جائے۔ ایک صفحے پر قدیم تحریر میں لکھا تھا:
"سچائی کے محافظ اندھیرے میں پلتے ہیں، مگر روشنی ان کی کمزوری ہے!"
"روشنی! ہمیں روشنی چاہیے!" لیا نے مشعل کو بلند کیا۔
حماد نے فوراً سمجھا اور اپنی جیب سے چمکدار پتھر نکالا جو انہیں پہلے ملا تھا۔ جیسے ہی روشنی سائے پر پڑی، وہ کراہنے لگے اور ان کی شکلیں بگڑنے لگیں۔
"یہ کام کر رہا ہے!" ایلیکس نے جلدی سے مشعل دیواروں کی طرف پھینکی تاکہ پورے کمرے میں روشنی پھیل جائے۔
سائے تڑپنے لگے، جیسے روشنی ان کے لیے زہر ہو۔ ان کی سرخ آنکھیں بجھنے لگیں، اور ایک کے بعد ایک، وہ تحلیل ہوتے گئے۔ کچھ لمحوں بعد، کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
"ہم نے کر دکھایا..." حماد نے گہری سانس لی۔
مگر جیسے ہی وہ آگے بڑھے، اچانک فرش لرزنے لگا۔ تخت کے نیچے سے ایک اور دروازہ نمودار ہوا، اور اس کے پیچھے سے ایک آواز آئی:
"تم نے پہلا دروازہ پار کر لیا… مگر سچائی کے لیے قیمت ادا کرنا ہوگی!"
ایلیکس، حماد اور لیا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کیا آگے کوئی اور امتحان ان کا منتظر تھا؟ یا وہ سچ کے قریب پہنچ چکے تھے؟
باب 14: آزمائش کی گھڑی
تخت کے نیچے سے نمودار ہونے والا دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا تھا۔ اندر سے نکلنے والی ٹھنڈی ہوا میں سرگوشیاں گونج رہی تھیں، جیسے کوئی نامعلوم طاقت انہیں بلا رہی ہو۔
"ہمیں محتاط رہنا ہوگا!" ایلیکس نے سرگوشی کی، اس کی نظریں اندھیرے میں جھانک رہی تھیں۔
حماد نے اپنی تلوار مضبوطی سے تھامی اور لیا نے کتاب کو سینے سے لگا لیا۔ وہ تینوں آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھے۔
"تم نے پہلا دروازہ پار کر لیا... مگر سچائی کے لیے قیمت ادا کرنا ہوگی!" وہی گہری، پراسرار آواز پھر گونجی۔
اچانک، دروازے کے اندر روشنی چمکی اور وہ ایک وسیع ہال میں پہنچ گئے۔ دیواروں پر قدیم نقوش کندہ تھے، اور درمیان میں ایک سنہری پلیٹ رکھی تھی، جس پر الفاظ چمک رہے تھے:
"قربانی کے بغیر سچائی حاصل نہیں ہوتی۔ تم میں سے ایک کو اپنی سب سے قیمتی چیز ترک کرنا ہوگی!"
حماد، ایلیکس، اور لیا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ یہ قربانی کیا ہوگی؟ کیا وہ آگے بڑھنے کے لیے تیار تھے؟
لیا نے بے چینی سے سنہری پلیٹ پر چمکتے الفاظ پڑھے۔
"قربانی کے بغیر سچائی حاصل نہیں ہوتی۔ تم میں سے ایک کو اپنی سب سے قیمتی چیز ترک کرنا ہوگی!"
"یہ کیسا امتحان ہے؟" حماد نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
"یہ ہمیں آزما رہے ہیں… مگر ہمیں سوچنا ہوگا کہ قربانی کا مطلب کیا ہے!" ایلیکس نے غور سے پلیٹ کی طرف دیکھا۔
اچانک، ہال کی دیواروں سے سائے دوبارہ ابھرنے لگے، مگر اس بار وہ پہلے سے زیادہ واضح اور خوفناک تھے۔ ان کی سرخ آنکھیں شعلوں کی طرح دہک رہی تھیں۔
"ہمارے پاس وقت کم ہے!" لیا نے جلدی سے اپنی کتاب کھولی، مگر اس میں اس آزمائش کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
حماد نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور وہ چمکدار پتھر باہر نکالا جس نے پہلے سائے بھگائے تھے۔ جیسے ہی اس نے پتھر بلند کیا، سائے پیچھے ہٹنے لگے، مگر فوراً ہی انہوں نے دوبارہ اپنی جگہ بنا لی۔
"یہ بے کار ہے... ہمیں کوئی اور راستہ ڈھونڈنا ہوگا!" ایلیکس نے بے چینی سے کہا۔
"ہم میں سے کسی کو کچھ قربان کرنا ہوگا..." لیا نے آہستہ سے کہا۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر اس نے اپنی سب سے قیمتی چیز—وہ قدیم کتاب، جو ان کے سفر میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوئی تھی—سنہری پلیٹ پر رکھ دی۔
چند لمحوں کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ پھر اچانک، زمین لرزنے لگی، اور پلیٹ کے الفاظ دوبارہ چمکنے لگے:
"قربانی قبول کر لی گئی۔ سچائی کا دروازہ کھل رہا ہے!"
سامنے والی دیوار ایک گرجدار آواز کے ساتھ کھلی، اور روشنی کا ایک دروازہ نمودار ہوا۔
"ہمیں آگے بڑھنا ہوگا..." حماد نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
دروازہ دھیرے دھیرے کھل رہا تھا، اور اس کے پیچھے سے ایک سرد ہوا کے جھونکے نے ایلیکس، حماد اور لیا کو کپکپا دیا۔ دروازے کے پیچھے مکمل اندھیرا تھا، جیسے کوئی گہری کھائی ہو جہاں روشنی کی کوئی کرن بھی نہ پہنچ سکے۔
"یہ جگہ… کچھ عجیب لگ رہی ہے۔" لیا نے سرگوشی کی، اس کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔
حماد نے مشعل آگے کی اور روشنی اندھیرے میں گھسنے لگی۔ جیسے ہی روشنی نے اندرونی دیواروں کو چھوا، سیاہ نقوش چمکنے لگے۔ یہ کوئی قدیم تحریر تھی، ایک ایسی زبان میں لکھی گئی تھی جو شاید صدیوں سے کسی نے نہ پڑھی ہو۔
"یہ کیا ہے؟" ایلیکس نے حیرانی سے دیواروں کو چھوا۔
لیا نے جلدی سے اپنی کتاب کے صفحات پلٹے۔ "یہ زبان قدیم جادوگروں کی ہے… یہ جگہ کوئی عام تہہ خانہ نہیں، یہ اندھیرے کا مندر ہے!"
حماد نے تلوار سختی سے تھام لی۔ "اگر یہ واقعی کوئی مندر ہے، تو یہاں ضرور کچھ ہوگا جس کی حفاظت کی جا رہی ہو۔"
جیسے ہی وہ آگے بڑھے، ایک زوردار آواز گونجی۔ دیواروں سے نکلتی روشنی مدھم پڑنے لگی اور اچانک ہر طرف مکمل سیاہی چھا گئی۔
"یہ اندھیرا عام نہیں ہے…" ایلیکس نے کہا، "یہ روشنی کو کھا رہا ہے!"
حماد نے مشعل کو مزید بلند کیا، مگر اس کی روشنی جیسے کسی غیب کی قوت نے نگل لی ہو۔ ان کے دلوں کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
"یہاں کچھ چھپا ہوا ہے، کچھ جو ہمیں دیکھ رہا ہے!" لیا نے بے چینی سے کہا۔
اور تب ہی ایک گہری سرگوشی گونجی:
"تم یہاں کیوں آئے ہو…؟"
ان تینوں نے ایک ساتھ مڑ کر دیکھا۔ اندھیرے میں، دو سرخ چمکتی آنکھیں ان پر نظریں جما چکی تھیں۔
کیا یہ کوئی مخلوق تھی؟ یا کچھ اور؟
باب 16: سرخ آنکھوں کا سایہ
اندھیرا گہرا ہو چکا تھا، جیسے روشنی کا وجود کبھی تھا ہی نہیں۔ ان سرخ چمکتی آنکھوں نے ایلیکس، حماد اور لیا کو ساکت کر دیا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ آنکھیں صرف دیکھ نہیں رہیں، بلکہ ان کے اندر تک جھانک رہی ہیں، ان کے خوف کو محسوس کر رہی ہیں۔
"یہ… کون ہے؟" لیا نے سرگوشی کی، اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
حماد نے تلوار سختی سے تھامی، مگر اس کے ہاتھ پسینے میں بھیگ چکے تھے۔ ایلیکس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی اس نے قدم بڑھایا، زمین ہلکی سی لرز اٹھی۔
"یہ کوئی عام سایہ نہیں… یہ کچھ اور ہے…" ایلیکس نے دھیرے سے کہا۔
تبھی اچانک، وہ آنکھیں حرکت میں آئیں۔ اندھیرے سے ایک سیاہ دھواں سا ابھرا اور آہستہ آہستہ انسانی شکل اختیار کرنے لگا۔ ایک لمبا قد، دھندلے نقوش، اور ایک پراسرار چمک…
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟" وہ آواز پھر گونجی، مگر اس بار یہ ان کے اردگرد گونجنے لگی، جیسے ہر دیوار اسے دھرا رہی ہو۔
حماد نے ہمت جمع کر کے پوچھا، "تم کون ہو؟"
سایہ ہلکا سا ہنسا، ایک سرد اور بے جان ہنسی۔ "میں وہ ہوں جسے تم سمجھ نہیں سکتے۔ میں وہ ہوں جو صدیوں سے یہاں قید ہے۔ مگر… اب تم نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔"
یہ سنتے ہی لیا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ "ہم نے… کیا کیا؟"
ایلیکس نے جلدی سے لیا کی کتاب کو دیکھا۔ "یہ مندر دراصل ایک مہر تھی… ایک قید خانہ! اور ہم نے دروازہ کھول کر اسے آزاد کر دیا!"
حماد پیچھے ہٹنے لگا، مگر سایہ آگے بڑھ رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے ہاتھ اٹھایا، پورا کمرہ لرزنے لگا۔ دیواروں پر موجود قدیم تحریریں ایک ایک کر کے مدھم پڑنے لگیں، جیسے ان کی طاقت ختم ہو رہی ہو۔
"اب وقت آ چکا ہے… تمہارے امتحان کا!" سایہ گرجا، اور اچانک کمرے میں ایک زوردار جھٹکا لگا۔
ایلیکس، لیا اور حماد کا توازن بگڑ گیا، اور وہ زمین پر گرنے لگے۔ زمین جیسے پھسل رہی تھی، اور وہ کسی نامعلوم گہرائی کی طرف کھنچتے جا رہے تھے۔
یہ سایہ کون تھا؟ کیا واقعی انہوں نے ایک قدیم مخلوق کو آزاد کر دیا تھا؟ اور کیا وہ اب بچ پائیں گے؟
باب 17: بھول بھلیوں کا جال
زمین کھسک رہی تھی، جیسے کسی غیبی طاقت نے ایلیکس، حماد اور لیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔ وہ نیچے گر رہے تھے، مگر کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا تھا۔ اندھیرا، گہرا اور بھیانک… پھر اچانک، جیسے کسی نے کوئی جادوئی شے چالو کی ہو، وہ ایک زوردار دھماکے کے ساتھ فرش پر آ گرے۔
"یہ… کہاں آ گئے ہم؟" لیا نے کپکپاتی آواز میں پوچھا، اس کی آنکھیں خوف اور حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔
وہ تینوں ایک عجیب سی جگہ پر کھڑے تھے۔ چاروں طرف بلند و بالا پتھریلی دیواریں، جو دور آسمان میں جا رہی تھیں، اور درمیان میں تنگ راستے، جو بھول بھلیوں جیسے معلوم ہو رہے تھے۔
"یہ کوئی عام جگہ نہیں… یہ کسی نے جان بوجھ کر بنایا ہے، ہمیں الجھانے کے لیے!" ایلیکس نے دیواروں کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
حماد نے اپنی تلوار مضبوطی سے تھامی اور ایک طرف بڑھنے لگا، مگر جیسے ہی اس نے قدم رکھا، دیواریں اپنی جگہ بدلنے لگیں!
"یہ کیا ہو رہا ہے؟" حماد پیچھے ہٹ گیا۔
لیا نے جلدی سے اپنی کتاب کھولی اور اس پر لکھی تحریریں دیکھنے لگی۔ "یہ… جادوئی بھول بھلیاں ہیں۔ جو بھی غلط راستہ اختیار کرے گا، وہ ہمیشہ کے لیے قید ہو جائے گا!"
ایلیکس نے گہری سانس لی۔ "تو ہمیں صحیح راستہ ڈھونڈنا ہوگا… اور بہت محتاط رہنا ہوگا!"
انہوں نے آہستہ آہستہ آگے بڑھنا شروع کیا۔ ہر راستے پر نقوش، قدیم تحریریں، اور کبھی کبھی دیواروں سے سرگوشیاں سنائی دیتیں، جیسے کوئی ان سے بات کر رہا ہو۔
اچانک، حماد رک گیا۔ "یہ دیکھو! یہاں خون کے نشانات ہیں!"
لیا نے جھک کر دیکھا، "کسی نے یہاں گزرنے کی کوشش کی تھی… مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا!"
ایلیکس نے سر اٹھا کر دیواروں کی اونچائی دیکھی۔ "یہاں کوئی راستہ نہیں، مگر ہمیں حل نکالنا ہوگا… اس سے پہلے کہ یہ جال ہمیں ہمیشہ کے لیے قید کر دے!"
تبھی، پیچھے سے سرخ چمکتی آنکھیں دوبارہ ظاہر ہوئیں… سایہ ایک بار پھر ان کے قریب آ رہا تھا!
"وقت ختم ہو رہا ہے… تمہارے پاس زیادہ موقع نہیں!" وہ منحوس آواز گونجی۔
کیا ایلیکس، حماد اور لیا اس بھول بھلیاں سے بچ نکلیں گے؟ کیا وہ صحیح راستہ ڈھونڈ پائیں گے؟ یا پھر یہ جادوئی جال انہیں ہمیشہ کے لیے نگل لے گا؟
باب 18: شیطانی سرگوشیاں
ایلیکس، حماد اور لیا تیزی سے راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر ہر قدم پر راستے بدل رہے تھے۔ ہر موڑ پر سرگوشیاں گونجتی تھیں، جیسے کوئی ان کے کانوں میں بول رہا ہو۔
"یہاں سے مڑو… نہیں، وہ غلط راستہ ہے… آگے مت جاؤ!"
حماد نے دانت پیسے، "یہ بھول بھلیاں ہمیں پاگل کر دے گی!"
لیا نے جلدی سے اپنی کتاب کے اوراق پلٹے۔ "یہ جال عام نہیں… یہ ایک پرانی جادوئی لعنت کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم اس کا توڑ نہ نکال سکے، تو ہمیشہ کے لیے یہی بھٹکتے رہیں گے!"
ایلیکس نے غور سے دیوار پر بنی قدیم علامات کو دیکھا اور بولا، "یہاں کچھ لکھا ہے… اگر تم حقیقت دیکھنا چاہتے ہو تو روشنی تلاش کرو!"
"روشنی؟ مگر یہاں تو ہر طرف اندھیرا ہے!" لیا نے بے بسی سے کہا۔
تبھی، حماد کو یاد آیا… "وہ نیلے پتھر! جو ہمیں پہلی مہر کے قریب ملا تھا!"
ایلیکس نے جلدی سے پتھر نکالا، اور جیسے ہی اس نے ہوا میں اٹھایا، نیلی روشنی پورے راستے میں پھیل گئی۔
اچانک، سرگوشیاں بند ہو گئیں۔ دیواریں تھم گئیں، اور ایک راستہ ان کے سامنے نمودار ہوا۔
لیا نے خوشی سے کہا، "ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں!"
مگر جیسے ہی وہ آگے بڑھے، ان کے پیچھے ایک زوردار چیخ گونجی!
"یہ جال تمہیں چھوڑے گا نہیں!"
اور ان کے سامنے ایک خوفناک دروازہ نمودار ہوا… کیا یہ دروازہ آزادی کی طرف جاتا تھا، یا ایک اور خطرے کی جانب؟
باب 19: خونی دروازہ
ایلیکس، حماد اور لیا دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔ دروازہ پتھر کا تھا، مگر اس پر سرخ دھبے واضح نظر آ رہے تھے، جیسے کسی نے خون سے نشان لگائے ہوں۔
"یہ اچھا شگون نہیں…" لیا نے سرگوشی کی۔
حماد نے تلوار مضبوطی سے پکڑی، "مگر ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں!"
ایلیکس نے دروازے کو چھوا، اور فوراً ایک جادوئی دستخط نمودار ہو گیا۔
"یہ ایک معاہدے کا دروازہ ہے…" لیا نے لرزتی آواز میں کہا، "یہاں سے گزرنے کے لیے ہمیں کوئی قربانی دینی ہوگی!"
"قربانی؟ کیسی قربانی؟" حماد نے چونک کر پوچھا۔
تبھی، دروازے سے ایک گونجتی آواز نکلی:
"ایک کو دوسرے کے لیے چھوڑنا ہوگا… جو گزرے گا، وہ ہمیشہ کے لیے ایک کو پیچھے چھوڑ دے گا!"
لیا کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "مطلب… ہم تینوں نہیں جا سکتے!"
ایلیکس نے سختی سے دروازے کو گھورا، "یہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کرنا چاہتا ہے!"
حماد نے دروازے کے نشانوں کو غور سے دیکھا، پھر بولا، "نہیں، اس کا توڑ ہو سکتا ہے… ہمیں کسی اور طرح اسے دھوکہ دینا ہوگا!"
مگر جیسے ہی وہ کچھ سوچتے، دروازہ خود بخود کھلنے لگا… اور اس کے پیچھے ایک بھیانک سایہ ان کا انتظار کر رہا تھا!
کیا وہ سب ایک ساتھ گزر پائیں گے، یا کسی کو پیچھے رہنا ہوگا؟
باب 20: فیصلہ کن لمحہ
دروازہ دھیرے دھیرے کھل رہا تھا، اور اس کے پیچھے ایک سیاہ سایہ آہستہ آہستہ واضح ہو رہا تھا۔ ایلیکس، حماد اور لیا نے اپنی سانسیں روکے دروازے کے اس پار جھانکا۔
"یہ سایہ… یہ جیتا جاگتا ہے!" لیا کی آواز لرز رہی تھی۔
سایہ مزید واضح ہوا، اور ایک انسانی شکل اختیار کر گیا۔ مگر وہ کوئی عام انسان نہیں تھا۔ اس کے آنکھیں گہرے سرخ رنگ کی تھیں، اور اس کے چہرے پر ایسا دھواں تھا جیسے کسی جادو کی مہر اس پر ثبت ہو۔
"تم تینوں میں سے ایک کو پیچھے چھوڑنا ہوگا!" وہ بھیانک آواز میں بولا، "یہ دروازہ تینوں کو قبول نہیں کرے گا!"
حماد نے تلوار مضبوطی سے پکڑ لی، "ہم فیصلہ نہیں کریں گے! اگر تمہارے اصولوں کے مطابق ہمیں الگ ہونا ہے، تو ہم تمہیں ہی ختم کر دیں گے!"
سایہ مکروہ ہنسی ہنسا، "مجھے ختم کرنا؟ تمہیں نہیں معلوم تم کس سے بات کر رہے ہو!"
اچانک، سایہ ایک سیاہ دھوئیں میں تبدیل ہوا اور تیزی سے ان کی طرف لپکا! ایلیکس نے نیلا پتھر روشنی میں بلند کیا، مگر سایہ روشنی سے بچتے ہوئے حماد پر حملہ آور ہو گیا!
"حماد! پیچھے ہٹو!" لیا چلائی، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ سایہ حماد کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا، اور آہستہ آہستہ اس کا جسم دھندلا ہونے لگا۔
ایلیکس نے جلدی سے پتھر کو دروازے کے نشان پر رکھا اور زور سے جادوئی الفاظ دہرائے، "روشنی اندھیرے کو مٹاتی ہے!"
پتھر چمکنے لگا، اور ایک زوردار دھماکے کے ساتھ سایہ پیچھے ہٹ گیا، چیختے ہوئے دھند میں تحلیل ہو گیا۔
دروازہ پوری طرح کھل گیا، اور ایلیکس، لیا اور حماد تیزی سے اندر داخل ہو گئے۔
مگر جیسے ہی وہ اندر پہنچے، دروازہ خود بخود بند ہو گیا…
کیا وہ پھنس چکے تھے؟
!21 ⮘ بابجاننے کے لیے پڑھیں
Iqra Majeed Abbasi
WhatsApp ➤ Link
Facebook Group ➤ Nazariya Point of View











Comments
Post a Comment